مدینہ کی ریاست کہوں یا یہودی سوچ

تحریر:محمد عتیق اسلم رانا 
آغاز یہاں سے کرتے ہیں کہ کیا ایسا ممکن بھی ہے کہ کوئی شخص پاکستانی شہری ہوتے ہوئے بھی کسی دوسرے ملک کے مفادات کے لئے کام کرے؟ لیکن اس سے پہلے میں آپ کو ایک تقریب میں ہمارے وزیراعظم عمران خان نے قوم کو ایسے خواب دیکھائے جس کا وجود آج تک ہمیں نظر نہیں آرہا ۔ہمیں بتایا گیا کی کہ ہم پاکستان کو مدنیہ کی ریاست بنائے گئے ۔ رحمتہ العالمین ﷺ کے امتی ہیں اور ایک ایسی ریاست جو اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آئی اس کا واحد راستہ ریاست مدینہ ہی ہے ضرورت اس امر کی ہیکہ آج ہم بھی وطن عزیز پاکستان کو ریاست مدینہ کے طرز پر ڈھالنے کی کوشش کریں کیونکہ اسی میں ہم سب کی بقا اورسربلندی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی نسل تیار فرمائی جس نے ساری دنیا میں اسلام کے منصفانہ اور عادل پر مبنی قوانین کا درس دیا اورجب تک یہ نظام بالا دست رہا اقوام عالم کو عدل و انصاف، مساوات اور مذہبی رواداری کے وہ مناظر دکھاتا رہا جنھیں دیکھنے کی آج نہ معلوم کتنی آنکھیں منتظر ہیں۔ریاست مدینہ انسانی فلاح وبہبود کے حوالہ سے ایک ایسی مثالی ریاست تھی،جس کی اس دنیا میں کوئی نظیر نہیں ملتی،ہماری رہنمائی کا سب سے بڑا اور موثر ذریعہ بھی ریاست مدنیہ ہی ہے ایک احمدی پیشوا نے کہا تھا کہ عمران خان نے ان سے ملاقات میں یہ یقین دہانی کراچکے تھے کہ اقتدار ملنے پر ان کے حقوق دلائے جائیں گے۔ اب یہ تو سبھی جانتے ہیں احمدیوں کو کونسا حق نہیں حاصل۔ ایک اور ویڈیو میں احمدی پیشوا کہتے ہیں جب تک مولوی ہے آپ بھول جائیں کہ عمران تبدیلی لائیں گے۔ اب یہ ایسی کون سی تبدیلی ہے جس کی راہ میں مولوی رکاوٹ ہے؟ عمران صاحب ختم نبوت معاملے میں مشکوک طور پر خاموش رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے حامی ان چیزوں پر غور کیوں نہیں کرتے؟مدینہ کی اسلامی ریاست کے دعوے دارختم نبوتکے حوالے سے علماء اکرم جو اس طرح اپنی مرضی کے فیصلے کر رہی ہے!افسوس صد افسوس! ہی تو پہلے کیا جا سکتا ہے پھر اس پر کہا جا سکتا ہے کہ اس حکومت نے یہ ایک ایسا حساس معاملے پر جو سچ یا جھوٹ ہونے کی صورت میں یکساں طور پر بھیانک نتائج کا حامل ہے۔ گزشتہ کچھ ماہ سے وطن عزیز میں ایک واقعہ زیر بحث ہے اور وہ واقعہ آسیہ نامی عیسائی عورت سے متعلق ہے جس نے 14 جون 2009ء بروز اتوار شانِ رسالت مآبﷺ میں گستاخی کی تھی جس کی وجہ سے ملک کے انتہائی اہم مکتبہ فکراہلسنت کے با اثر ترین شخصیت مولانا خادم حسین رضوی، سید خرم ریاض علی شاہ پر حاکموں اور ان کے سہولت کاروں نے پاکستان سے محبت کا دم بھرنے والوں کو دہشت گرد، غدار، اور انتہا پسند قرار دیا مگر یہ عجب دیوانے ہیں کہ ہر ظلم سہہ کر لبیک یارسول اللہ کی دیوانہ وار صدا لگاتے ہیں اور قید ہو کر بھی کشمیر سے محبت کے ترانے گنگناتے ہیں۔اہم وہ بدنصیب پاکستانی ہیں جن کی بھری جوانی کے ایام میں آنکھوں کے سامنے سرٹیفائیڈ گستاخِ رسول عورت رہا ہوئی اور ہم سوائے مذمت کے کچھ نہ کرسکیہم وہ بد بخت ہیں جن کی نگاہوں کے سامنے ایک عاشقِ رسول ﷺ کو پھٹے چڑھا دیا گیا مگر ہم امن پسندی کا راگ الاپ کرکے ملک و قوم سے وفا کرتے رہیہم وہ شرمسارپاکستانی ہیں جن کی آنکھوں کے سامنے ہمارے پیارے پاکستان کی نظریاتی اساس کو ختم کردیا گیا مگر ہم سوائے افسوس کے کچھ نہ کرسکے! سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ غیر شرعی اور غیر آئینی تھا اور ہیسپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ کروڑوں پاکستانیوں کی دل آزاری کا باعث ہیاسلام کے نام پر بننے والے ملک میں ریاست مدینہ کے دعویدار جھوٹے ہیں،حکمرانوں نے تحریک لبیک کے ساتھ عہد شکنی کی ہیریاست مدینہ کے جھوٹے دعویداروں نے آرٹیکل 295 سی کو غیر مؤثر کردیاحکمرانوں نے گستاخ رسول عورت کو رہا کرکے دونوں جہاں کی شرمندگی اپنے نام کرلی ہے اہلیان پاکستان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے لیے چپ مت رہیں ہم سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ وہ ایک ہی شیر تھا جسے قید کردیا نام ہے خادم رضوی ۔ریاست مدنیہ شہری حقوق کی علمبردار ہوتی ہے مگر عمران خان کی کی نام نہادریاست مدنیہ میں شہری حقوق کی توہین دیکھنی تو سانحہ ساہیوال پر طائرانہ نگاہ ڈال لیجے۔

Post a Comment

0 Comments